ساہیوال(سماج نیوز)کمشنر ساہیوال ڈویژن محمد احسن وحید نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور گلوبل وارننگ سے پاکستان دنیا میں شدید متاثر ہونے والے 10ملکوں میں شامل ہے جس سے ملک کی زرعی پیداوار اور پانی کی دستیابی متاثر ہوئی – گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے کا واحد ذریعہ درخت لگانا اور جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنا ہے -ہر پاکستانی کو چاہیے کہ وہ اپنے حصے کا ایک پودا ضرور لگائے تا کہ ماحولیاتی آلودگی دور ہو اور تخیر پذیر موسموں کے منفی اثرات کم ہو سکیں -انہوں نے یہ بات گورنمنٹ کالج میں وزیر اعظم عمران خان کے پروگرام ”پلانٹ فار پاکستان ڈے “ کے حوالے سے ہونے والی شجر کاری کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں ڈپٹی کمشنر ذیشان جاوید ،ایڈیشنل کمشنر ایس ڈی خالد ،ڈویژنل فاریسٹ آفیسر ملک وسیم سجاد ،کالج پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد ،ڈائریکٹر کالجز شباب فاطمہ ،ڈائریکٹر زراعت فاروق جاوید ،ایس ای اریگیشن خالد بشیر ،ڈائریکٹر سکولز سجاد اسلم ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سید علمدار حسین شاہ،ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اظہر دیوان اور اسسٹنٹ کمشنر سفیان دلاور،چیئر مین پی ایچ اے چوہدری علی شکور ، وزیر اعلی شکایت سیل کے انچارج شیخ محمد چوہان ،رہنما تحریک انصاف محمد یار ڈھکو کے علاوہ صدر ڈسٹرکٹ بار راجہ جاوید اختر ،تاجروں ،صحافیوں اور اساتذہ کرام بھی موجود تھے -ڈی ایف او ملک وسیم سجاد نے بتایا کہ اس دن کی مناسبت سے ساہیوال ڈویژن میں 50 ہزار پودے لگائے جا رہے ہیں جو محکمہ جنگلات کی نرسریوں سے تمام سرکاری اداروں اور عام شہریوں کو مفت دستیاب ہیں ان میں پاپولر ،کیکر ،توت اور سمبل کے پودے شامل ہیں -انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ تعلیم ،صحت ،زراعت اور لائیوسٹاک کو خصوصی طور پر مفت پودے فراہم کئے جا رہے ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ سکولوں ،مراکز صحت اور سرکاری دفاتر میں درخت لگائیں جا سکیں -کمشنر محمد احسن وحید نے شجر کاری کی اس خصوصی مہم میں عام آدمی کی شرکت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور محکمہ تعلیم کے افسران پر زور دیا کہ وہ سکولوں اورکالجز کے طلبا و طالبات کو بھی درخت لگانے کی اس مہم میں شامل کریں اور انہیں اپنے لگائے ہوئے پودوں کی حفاظت کا شعور بھی دیں۔کمشنر ساہیوال ڈویژن محمد احسن وحید نے کہا کہ صرف درخت لگانا ہی کافی نہیں بلکہ ان کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے -تقریب کے آخر میں واک بھی کی گئی جس میں طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی –